شہادتِ حق

واہمہ ہے کہ خدا؟

ذہن اُلجھے تو الجھتا ہی چلا جاتا ہے

چاند خاموش ستارے چپ ہیں

دل جو دھڑکے تو دھڑکتا ہی چلا جاتا ہے

ہاں مگر

واقعہِ کرب و بلا

تیرے مظلوم سجیلے کردار

دجلہِ خوں میں نہائے ہوئے بے باک سوار

درِ احساس پہ دیتے ہیں صدا

ہم نے ڈھونڈا ہے اُسے

پردہِ سنگِ نظر کے اُس پار

ہم نے پایا ہے اُسے

صفتِ رنگ کے پیراہن میں

اِک حقیقت کی طرح جلوہ نما

برق اد ا قَفسِ رنگ کے زندانی تجھے کیا معلوم

واہمے پر بھی کوئی جان دیا کرتا ہے؟

شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s