شکیب جلالی کی غزل کے امتیازات۔ از پروفیسر ابوالکلام قاسمی

برصغیر کی تقسیم کے بعد ہندو پاک میں جن معدودے چند غزل گو شعراء نے اپنے لہجے اور فکری رویوں سے تازگی اور سلیقہِ اظہار کا ثبوت فراہم کیا ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ شکیب جلالی کا شمار یقینی طور پر ایسے ہی ممتاز غزل گو شاعروں میں کیا جا سکتا ہے شکیب جلالی‘ ناصر کاظمی اور خلیل الرحمن اعظمی نسبتاً کم عمر معاصرین میں تھے۔ ان کی ابتدائی غزلوں نے ہی ادبی جرائد کے قارئین کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی تھی ‘ یہ محض سوئے اتفاق تھا کہ قدرت نے ان کو طویل عمر سے نہیں نوازا۔ مگر محض دو دہائی کے عرصے میں انہوں نے جو کہا ‘ اسے انتخاب کا نام دینا چاہیے۔ ان کے واحد مجموعہ کلام ’’روشنی اے روشنی‘ ‘ میں ستر غزلوں کے ساتھ کچھ نظمیں بھی شامل ہیں۔ مگر یہ نظمیں محض منہ کا ذائقہ بدلنے کا نمونہ معلوم ہوتی ہیں۔ غزل کے شعروں جیسے تاثرات اور قدرے غیر پہلو دار تصورات کو نظم کے مصرعوں میں پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ البتہ اظہار کا سلیقہ ان نظموں میں بھی صاف دکھائی دیتا ہے۔ خیال کی پیچیدگی‘ فکر کا پھیلاؤ یا پھر اس کو سمیٹ کر نظم کی اکائی میں تحلیل کرنے کی صفت ان نظموں میں خال خال ہی نظر آتی ہے۔ اس اعتبار سے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ شکیب جلالی کی نظمیں ان کی غزلوں کی توسیع ہیں اور ان نظموں میں بھی ایک غزل گو شاعر کا فنی طریق کار اور طرز اظہار نمایاں ہے۔

جہاں تک غزل گوئی کا سوال ہے تو شکیبؔ کے مزاج کی مخصوص ساخت‘ اور تصورات کے جوہر کشید کر کے کسی ایک نقطے پر مرتکز کر لینے کی کیفیت‘ کو ان کی غزلوں میں نت نئے لہجے اور رنگا رنگ زاویہ نظر کے ساتھ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی ایک غزل میں کہا تھا کہ :

جو دل کا زہر تھا کاغذ پہ سب بکھیر دیا

پھر اپنے آپ طبیعت مری سنبھلنے لگی

اس شعر میں تخلیقی عمل کے ایک مرحلے کو شاید غیر شعوری طور پر اس خوبصورتی کے ساتھ ظاہر کیا گیا ہے کہ شعر گوئی کے مدعا کے ساتھ محرک کا بھی سراغ لگایا جا سکتا ہے۔ کاغذ پہ دل کا زہر بکھیرنے کے عمل میں یوں تو کرب کی کیفیت سے نجات حاصل کرنے کا راز چھپا معلوم ہوتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ’’تخلیق کا یہ عمل اس شعر میں بیان ہونے والے مرحلے میں اپنی شخصیت کو توازن‘ تناسب اور اعتدال سے دوچار کرنے کا مترادف بن جاتا ہے۔ اسی باعث طبیعت کے سنبھلنے کی بات قرین قیاس بھی بن جاتی ہے اور قابل وثوق بھی معلوم ہوتی ہے۔

مرزا غالب نے کہا تھا کہ :

پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسد

ڈرتا ہوں آئینے سے کہ مردم گزیدہ ہوں

یہاں انسان کا انسان سے فریب کھایا ہوا ہونا‘ مردم گزیدہ کی تمثیل میں بیان ہوا ہے اور اس بیان کو سگ گزیدہ کی ترکیب سے ہم آہنگ کر کے کیفیت کی شدت پیدا کر دی گئی ہے۔ شکیب جلالی بھی اپنی ایک غزل میں کم و بیش اس نوع کے تجربے سے دو چار دکھائی دیتے ہیں۔ مگر شکیبؔ کے یہاں مردم گزیدگی کے باعث مردم بیزاری اور مردم بیزاری کے سبب شدید طور پر تنہا ہو کر رہ جانے پر ساری توجہ صرف کی گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ :

میں وہ آدم گزیدہ ہوں جو تنہائی کے صحرا میں

خود اپنی چاپ سن کر لرزہ بر اندام ہو جائے

اس شعر میں شدید احساس تنہائی نے اپنے قدموں کی آوا زکو بھی ہیبت ناک بنا دیا ہے۔ او رلرزہ براندام ہونے کے عمل میں گھبراہٹ کے ساتھ ارتعاش کی کیفیت نے شعر کو احساس اور جذبے کی متحرک تصویر میں ڈھال دیا ہے۔ مزید برآں یہ کہ وہ سمعی پیکر تراشی جس کا تجربہ ہمیں معاصر غزل گوئی میں خاصا کم ہوتا ہے ‘ شکیب جلالی کی غزلوں میں اس احساس کی فراوانی ملتی ہے۔ محولہ بالا شعر میں اپنی چاپ سننے او ر اس سے متاثر ہو کر لرزہ براندام ہونے کا جو تجربہ ہوتا ہے ‘ احساس کی اس جہت سے ہماری آشنائی معاصر غزل کے بہت کم اشعار میں ہوتی ہے۔ اردو شاعری میں بالعموم بصری پیکروں کی بہتات نے انسان کے دوسرے حواس کے عمل دخل سے لا تعلقی کا تاثر عام کر رکھا ہے۔ لمسی پیکر تراشی کے بارے میں تو عام تاثر یہ قائم کیا جا تا رہا ہے کہ چوں کہ اسلام کے زیر اثر گناہ و ثواب اور خیر و شر کا جو ماحول عام ہوا اس ماحول میں غزل کے مسلم شعرا کے یہاں بصارت پر اکتفا کرنے کو کافی سمجھ لیا گیا۔ لیکن جب بصارت سے کہیں زیادہ مجرد احساس سماعت کی کارفرمائی میں موجود ہے‘ تو بھلا سمعی پیکروں کی طرف سے بے اعتنائی کا کیا جواز فراہم کیا جا سکتا ہے۔ شکیب جلالی کی شاعری میں ہمیں اس طرح کا کوئی قدغن نظر نہیں آتا۔ یہی سبب ہے کہ اس نوع کے اشعار کی فراوانی ان کی غزل گوئی کا خاصہ معلوم ہوتی ہے‘ جن میں احساس سماعت کی کارفرمائی بہت واضح ہے :

میں لوٹ آیا ہوں خاموشیوں کے صحرا سے

وہاں بھی تیری صدا کا غبار پھیلا تھا

اے دوست پہلے قرب کا نشہ عجیب تھا

میں سن سکا نہ اپنے بدن کی پکار بھی

وہ خموشی انگلیاں چٹخا رہی تھی اے شکیبؔ

یا کہ بو ندیں بج رہی تھیں رات روشن دان پر

خموشی بول اٹھے ہر نظر پیغام ہو جائے

یہ سناٹا اگر حد سے بڑھے کہرام ہو جائے

ان اشعار میں کہیں بول اٹھنے کی تناقصی پیکر تراشی‘ کہیں سناٹے کا حد سے تجاوز کر کے کہرام کی صورت میں مخلوط امیجری کا احساس‘ کہیں صدا اور آواز کو پھیلے ہوئے غبار کی صورت میں مشاہدہ کرنے کی کیفیت اور کہیں بدن کی پکار سننے اور خموشی کے انگلیاں چٹخانے کی کیفیت نے شکیبؔ کی غزل میں حسی تجربات کی ایک الگ دنیا آباد کر رکھی ہے۔ ان اشعار میں استعارہ سازی اور پیکر تراشی کی ہم آمیزی میں الفاظ کو نیا سیاق و سباق دینے اور نئی تراکیب سے دو چار کرنے کا انداز بہت نمایاں ہے۔ خاموشی کا صحرا‘ صدا کا غبار‘ بدن کی پکار‘ خموشی کی آواز اور سناٹے کا کہرام بن جانا جیسی تمام تراکیب استعارہ میں امیجری اور امیجری میں استعارے کو مدغم کرنے کے نتیجے میں رونما ہوئی ہیں اور ترکیب سازی کی اس صفت نے مخلوط پیکر تراشی کے انداز میں شدت پیدا کی ہے۔

دیکھنے سننے اور محسوس کرنے کا عمل بالترتیب منظر‘ آواز اور حسی معروض سے سروکار رکھتا ہے‘ مگر اس ضمن میں شکیب جلالی کا امتیاز یہ ہے کہ وہ ان دیکھی چیزوں کو دیکھنے اور خاموشی کو سننے کا تاثر کچھ اس طرح پیدا کرتے ہیں کہ زبانِ حال کو محسوس کرنے اور سننے کے معاملے میں ان کی غیر معمولی انفرادیت قائم ہوتی ہے۔ ان کا ایک شعر ہے :

مرے ہی کان میں سرگوشیاں سکوت نے کیں

مرے سوا بھی کسی سے یہ بے زبان کھلا؟

بے زبانی اور کھلنے میں جو تضاد کی کیفیت ہے اس کا لطف اپنی جگہ ‘ مگر اس کے ساتھ ہی سرگوشیوں کا وہ انداز جو سکوت سے آشنائی کے بعد قائم ہوتا ہے ‘ وہ ایک ایسا زوایہ اظہار ہے جس میں شکیبؔ کا کوئی شریک نہیں دکھائی دیتا۔ شکیب جلالی ‘ اپنے اس زاویے کو یہیں تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اس میں بعض اور پہلوؤں کا اضافہ کرتے ہیں۔ وہ اپنے ماحول کے تضادات اور بے حسی کا بھی شدید احساس رکھتے ہیں۔ اس لیے ان کے لیے کَلی کا جواں مرگ ہونا اور ہواؤں میں سسکیوں کو محسوس کرنا دراصل ان خفیف سے ارتعاشات کو محسوس کرنا بن جاتا ہے جن تک غیر جذباتی حوالوں کی مدد سے رسائی نہیں حاصل کی جا سکتی۔

بنی نہیں جو کہیں پر کَلی کی تُربت تھی

سنا نہیں جو کسی نے‘ ہوا کا نوحہ تھا

اس عالم میں جب وہ احساس کے غیر محسوس حوالوں سے رابطہ قائم کرتے ہیں تو انھیں خاموش تصویر بھی باتیں کرتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔

اب یہاں کوئی نہیں ہے جس سے باتیں کیجیے

یہ مگر چپ چاپ سی تصویر روشن دان پر

لفظیات کی ندرت اپنی جگہ مگر خود مرکزیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تنہائی کے احساس نے جس طرح جدید انسان کو اس کے معاشرے میں بیگانگت کے احساس سے دو چار کیا ہے اس کیفیت سے شاعر کا سامنا مندرجہ بالا شعر میں بھی ہے مگر اس احساس تنہائی کی شدید صورتیں بعض اور اشعار میں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔

وہاں کی روشنیوں نے بھی ظلم ڈھائے بہت

میں اس گلی میں اکیلا تھا اور سائے بہت

آ کر گرا تھا کوئی پرندہ لہو میں تر

تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر

ان دو اشعار میں سایہ اور تصویر مشترک قدر کی حیثیت سے موجود ہیں ‘ مگر پہلے شعر میں فرد کا اکیلے پن کے بجائے ہجوم سے دو چار کرنے کا تجربہ مختلف زاویے سے پڑنے والی روشنی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سایوں کا التباس بھی ہو سکتا ہے۔ یہی التباس شاعر کو کبھی خود فریبی میں مبتلا کرتا ہے اور کبھی پرندے کے لہو میں تر ہونے کی اذیت سے سامنا کراتا ہے۔ پھر یہ کہ موخر الذکر شعر میں لہو سے بننے والے نقوش کو تصویر کے پیکر میں دیکھنا بھی شاعر کے احساس بیگانگت اور خوف وہراس کی کیفیت کو دو آتشہ بنا دیتا ہے۔

شکیب جلالی کو یوں تو ایسا موقع ہی نہیں ملا کہ وہ جدید شاعری کی منصوبہ بندی سے اپنے آپ کو ہم آہنگ کرتے ‘ اور نہ کوئی ایسی صور ت ہی پیدا ہوئی کہ جدید شعری رجحان کے نظریہ ساز نقاد شکیبؔ کی شاعری کو اپنے نظریاتی پس منظر میں پیش کرتے ‘ تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ شکیب جلالی نے روح اور جسم کی ثنویت اور انسان کی بیگانگت کو مختلف غزلوں میں نہایت اثر انداز طریقہ پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے وہ اس مضمون کی تمثیل کبھی روح کے تجرد کو تجسیمی پیکروں میں ڈھال کر پیش کرتے ہیں او رکبھی بالکل نئی تشبیہات تراش کر۔ اس سلسلے میں ان کے دو شعر بڑی اہمیت کے حامل ہیں :

سوچو تو سلوٹوں سے بھری ہے تمام روح

دیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لباس پر

ملبوس خوشنما ہے مگر جسم کھوکھلے

چھلکے سجے ہوں جیسے پھلوں کی دکان پر

پہلے شعر میں جسم او رروح کو جس طرح متناقض صورت حال میں پیش کیا گیا ہے‘ عین اسی طرح دوسرے شعر میں ملبو س اور جسم کو تضاد کی کیفیت سے دو چار کیا ہے۔ مگر دونوں اشعار میں جو چیز مشترک ہے وہ خارج کے نمائشی پہلو پرطنز اور انسان کی داخلی دنیا کے دیوالیہ پن کا نوحہ ہے۔ معاصر زندگی کی اس عظیم سچائی کا احساس ہی بڑی بات ہے ‘ یہاں تو شاعر احساس کی منزل سے گزر کر اعتراف کے تجربے سے نبرد آزما دکھائی دیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ سایہ اور عکس کا پیکر شکیب جلالی کے مخصوص انداز نظر کا پتہ دیتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی اس پیکر کے حوالے مضمون کی تبدیلی اور احساس کی ندرت کے ساتھ تبدیل ہوتے ہوئے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

مجھے گرنا ہے تو میں اپنے ہی قدموں میں گروں

جس طرح سایہِ دیوار پہ دیوار گرے

یہاں سایہ کو اپنا عکس قرار دینے کے ساتھ اپنا سہارا بھی متّصور کیا گیا ہے۔ اپنے ہی قدموں ‘ کے الفاظ میں عزت نفس اور استحکام ذات کا جو داعیہ موجود ہے وہ شعر کے واحد متکلم کو ایک ڈرامائی کردار بنا دیتا ہے ‘ ایک ایسا کردار جس میں المیہ کے ہیرو جیسی شان موجود ہے۔ مزید یہ کہ دوسرے مصرعے کی تشبیہ اپنے پیکر کے باعث شعر کے مضمون کو ہشت پہلو بنا دیتی ہے۔ یہ شکیب جلالی کا ایسا شعری طریقہ کار ہے جس میں وہ یکتا اور بے مثال معلوم ہوتے ہیں اس شعری طریقہ کار کی ایک مثال ایسے شعر سے دی جا سکتی ہے جس میں بظاہر چہرے کو پتھر سے تشبیہ دی گئی ہے۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ تخاطب دیدہِ تر سے ہے ‘ جو اس المیے کا محرک ہے جس المیے پر شعر کی بنیاد استوار کی گئی ہے۔

کیا کہوں دیدہِ تر ! یہ تو مِرا چہرہ ہے

سنگ کٹ جاتے ہیں بارش کی جہاں دھار گرے

اس شعر میں دیدہِ تر کے حوالے سے جس طرح چہرے کے اضمحلال اوربڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ مسخ ہوتی ہوئی جوانی کا کرب نمایاں کیا گیا ہے اس میں دوسرے مصرعے کی آفاقی سچائی کے ذریعے داخلی احساس اور خارجی حقیقت کو ہم آہنگ کرنے کی کیفیت نے ٹھوس امیجری کی شکل اختیا رکرلی ہے۔ شکیب جلالی کے شعری اسلوب میں تنوع کا انداز کبھی یاد کو مجسم کرنے کے وسیلے سے اور کبھی غز ل کے روایتی رچاؤ کا احترام کرنے کے سبب بہت واضح ہے۔ اس تنوع کو زیادہ وثوق انگیز طریقہ پر ان چند اشعار میں دیکھا جا سکتا ہے :

آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے

جتنے اس پیڑ کے پھل تھے پسِ دیوار گرے

نہ اتنی تیز چلے سر پھری ہوا سے کہو

شجر پہ ایک ہی پتّا دکھائی دیتا ہے

یہ ایک ابر کا ٹکڑا کہاں کہاں برسے

تمام دشت ہی پیا سا دکھائی دیتا ہے

اک یاد ہے کہ دامنِ دل چھوڑتی نہیں

اک بِیل ہے کہ لپٹی ہوئی ہے شجر کے ساتھ

ہوا چلی سرِ صحرا تو یوں لگا جیسے

ردائے شام مرے دوش سے پھسلنے لگی

اس نوع کے مختلف الجہاد اشعار میں شکیب جلالی کے شعری طریقہ کار کا مشاہدہ بھی کیا جا سکتا ہے‘ اور ان کی غزل گوئی کے اس تنوع کو بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے جو اکثر شکیبؔ کی انفرادیت پر منتج ہوتا ہے۔

(دسمبر 2003)

شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s