شکیب جلالی: مشعلِ درد اب بھی روشن ہے از شمس الرحمن فاروقی

امیر خسرو نے لکھا ہے کہ فن شعر میں استاد بننے یا استاد کہلانے کے لیے کئی شرطوں کا پورا ہونا ضروری ہے۔ ایک شرط یہ ہے کہ شاعر کا ادبی معاشرہ اس کو استاد مانے۔ بظاہر یہ بات معمولی سی ہے ‘ اور بڑے شاعر کے بارے میں جو مفروضہ ہمارے زمانے میں بڑی حد تک عام ہے‘ کہ اچھے یا بڑے شاعر کی قدر اس کے اپنے زمانے میں نہیں ہوتی‘ اس کے خلاف جاتا ہے۔ لیکن ذرا غور کریں تو امیر خسرو کی بات میں کئی گہرائیاں نظر آتی ہیں۔ مثلاً ایک تو یہ کہ ادبی معاشرے کے جمہور‘ یوں ہی کسی کے سرپرتاج نہیں رکھ دیتے۔ وہ اسی شاعر کو استاد قرار دیتے ہیں جو زمانے کے مزاج ‘ تہذیب کی آواز ‘ طرز شعر گوئی‘ ہر چیز کا لحاظ رکھتے ہوئے کوئی ایسی کمی پوری کرتا ہو جسے اس کے معاصرین پوری نہ کرسکے ہوں۔ دوسری بات یہ کہ اگر کسی شاعر کا اپنا ادبی معاشرہ اس کی عظمت کو نہ پہچانے گا تو بھلا دوسرے کیا پہچانیں گے؟ یہ تویوں ہوا کہ کوئی دعویٰ کرے کہ فلاں شخص اپنے ملک کا سفیر ہے‘ لیکن خوداس کے ملک سے اس شخص کو اوراق سفارت نہ مل سکے ہوں۔ ظاہر ہے اسے کون معتبر و معتمد کہے گا۔

یہ بات اور ہے کہ ہمارے زمانے میں ادبی معاشرہ پہلے کی طرح مستحکم اور مستقل نہیں رہ گیا۔ شاعر اور اس کے سامع/ قاری کے درمیان ذہنی اور روحانی ہم آہنگی بھی اب بہت کم رہ گئی ہے۔ ادھر شعرا کو بھی اپنے اوپر پہلے جیسا اعتماد نہیں رہا۔ لیکن یہ بات پھر بھی اپنی جگہ پر ہے کہ اپنے ماحول و معاشرہ میں قبولیت (واضح رہے میں ’’مقبولیت‘ ‘ نہیں کہہ رہا ہوں )حاصل کیے بغیر کوئی شاعر اپنے بارے میں کوئی دعویٰ نہیں کر سکتا۔ امیر خسرو کے بیان کردہ اصول کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ استاد شاعر کی پہچان یہ بھی ہے کہ اس کا کلام دور دور تک لوگوں کی زبان پر ہو‘ اس کے بہت سے اشعار ضرب المثل کا درجہ اختیار کر گئے ہوں۔

اس نقطہِ نظر سے شکیب جلالی کے کلام کو پڑھیں تو ہمیں جگہ جگہ ایسے شعر نظر آتے ہیں جو ضَربُ المثل کی حد تک مانوس ہو چکے ہیں اور نئی شاعری کی پہچان بیان کرنے کے لیے اکثر مذکور ہوتے ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ شکیب جلالی کے سوا کوئی جدید شاعر نہیں ہے جس نے اتنی کم عمر پائی ہو اور جس کا کلام اتنا مختصر ہو اور پھر بھی جس کے شعر اتنی کثیر تعداد میں مقبول خاص و عام ہو چکے ہوں۔ شکیب جلالی کی اکثر غزلوں کا ایک شعر‘ بلکہ بعض غزلوں کے تو دو دو شعر آج بھی ہماری زبان پرہیں۔ میں اپنے حافظے سے کچھ شعر پیش کرتا ہوں :

نہ اتنا تیز چلے‘ سر پھری ہوا سے کہو

شجر پہ ایک ہی پتّا دکھائی دیتا ہے

یہ ایک ابر کا ٹکڑا کہاں کہاں برسے

تمام دَشت ہی پیاسا دکھائی دیتا ہے

آ کر گرا تھا کوئی پرندہ لہو میں تر

تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر

آ کے پتّھر تو مرے صحن میں دو چار گرے

جتنے اس پیڑ کے پھل تھے‘ پسِ دیوار گرے

وہی جھکی ہوئی بیلیں ‘ وہی دریچہ تھا

مگر وہ پھول سا چہرہ نظر نہ آتا تھا

فصیلِ جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں

حُدودِ وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی

جاتی ہے دھوپ اُجلے پَروں کو سمیٹ کے

زخموں کو اب گِنوں گا میں بستر پہ لیٹ کے

یہ کون بتائے عَدم آباد ہے کیسا!

ٹوٹی ہوئی قبروں سے صدا تک نہیں آتی

میں گمان کرتاہوں کہ اگر دیوان کھول کر دیکھوں تو … آدھے نہیں تو چوتھائی شعر ضرور ایسے ملیں گے جن کی شہرت ان کے خالق سے بے نیاز ہو کر قبولِ خاطر اور لُطفِ سخن کے پر لگا کر اڑتی چلی گئی ہے اور وہ شعر جدید شاعری کا بیش قیمت ترین سرمایہ ہیں۔ آج شکیبؔ کی موت کے کوئی چالیس سال بعد کی غزلیں دیکھئے تو کئی عمدہ شعرا کے یہاں شکیبؔ کا لہجہ یا ان کے مضامین‘ یا ان کی طرح کے پیکر اور استعارے جھمکتے نظر آتے ہیں۔ خود ان کے معاصرین میں سب سے بہتر شعرا میں شاید منیر نیازی اور سلیم احمد ہی ایسے ہوں جن کا کلام پڑھیں تو شکیب جلالی کی یاد بہت کم آئے۔ دور و نزدیک ان کی آواز کے عکس آبی رنگ کی طرح نظر آتے ہیں ( آب ساہر رنگ میں شامل ہے میاں ‘ میر) تو اسی وجہ سے جو میں نے اوپر بیان کی۔ یعنی شکیب جلالی کی غزل ہمارے زمانے کے کسی ایسے تخیلی اور تخلیقی تقاضے کو پوری کررہی تھی‘ اور اب بھی پوری کررہی ہے ‘ جس کی تکمیل اور آسودگی اوروں کے یہاں نہیں ہو سکتی تھی۔

اب یہاں ایک لمحہ ٹھہرکر اس سوال پر غورکرلیں کہ وہ کون سی صفت ہے جو صرف شکیب جلالی کا مابہ الامتیاز ہے اور جس کی بنا پر ان کے اشعار کو یہ قبولیت ملی ہے؟ یہاں سب سے پہلے کہنے کی جو بات ہے وہ یہ ہے کہ مختلف شعرا کی انفرادیت الگ الگ صفات میں نمایاں ہوتی ہے۔ مثلاً کسی کے یہاں استعارے کی شدت ہے‘ کسی کے یہاں پیکر کا وفور‘ کسی کے یہاں لسانی تجربے اور زبان کے ساتھ خلاقانہ بلکہ حاکمانہ رویہ ہے‘ کسی کے کلام میں غزل کی روایت کا احساس نئے رنگ سے ملتا ہے۔ وہ شاعری سب سے زیادہ یاد رکھی جاتی ہے جس میں پیکر کی ندرت یا استعارے کی جدت اور چمک ہو‘ یا پھر جس میں شاعر/ متکلم خود اپنا‘ یا معشوق کا ‘ یا زمانے کی طرز و روش کا مذاق اڑا رہا ہو۔ جس شاعری میں زبان کے ساتھ خلاقانہ توڑ پھوڑ کا رویہ ہو ‘ وہ مرعوب اورپریشان تو کرتی ہے مگر صرف ان لوگوں کو بہت پسند آتی ہے جو زبان کے جبر‘ اور خاص کر غزل میں زبان کے جبر کو ڈھیلا ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ شکیب جلالی کی غزل میں خاص بات یہ ہے کہ زبان پر خلاقانہ جبر اور اپنے اوپر ہنستے رہنے کی ادا کو چھوڑ کر جدید غزل کی ہر کیفیت ان کے مختصر سے کلام میں مل جاتی ہے۔ ایسے پیکروں کے وہ بادشاہ ہیں جوآنکھ اور سامعہ کو متاثر کریں۔ کبھی یہ پیکر دونوں حسوں کو بیک وقت بھی متاثر اور متحرک کرتے ہیں۔ پیکر پر مبنی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ سامع / قاری رک کر اس کے معنی نہیں پوچھتا۔ اس پیکر کی جو معنویت خود سامع/ قاری کے ذہن میں ہوتی ہے وہ تمام دوسرے تاملات اور تمام مسابقتی تعبیرات کو روک دیتی ہے اور ایک ایسی شعری صورت حال پیش کرتی ہے جو تعبیر سے ماورا اور صرف احساس و محسوس پر مبنی ہوتی ہے :

آ کر گرا تھا کوئی پرندہ لہو میں تر

تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر

یہاں پیکر کے تمام اجزا معنی خیز ہیں اور مستقل تعبیر کے متقاضی ہیں :

1۔ آ کر گرا

2۔ پرندہ

3۔ لہو میں تر

4۔ تصویر

5۔ چھوڑ گیا

6۔ چٹان پر

لیکن ہم جب شعر سے پہلی بار دو چار ہوتے ہیں تو نہ الگ الگ اجزا کے معنی پر غور کرتے ہیں اور نہ ان کی آپسی مسابقت (Competitiveness)کی ہمارے ذہن میں کوئی اہمیت ہوتی ہے۔ ہم اس شعر کو محض اس کے مجموعی پیکری تاثر اور وقت کے دو مقررہ لمحات (آ کر گرا تھا‘ چھوڑ گیا ہے) کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔ ’آ کر گرا‘ میں پرواز‘ رفتار ‘ بے قابو رفتار‘ کا تاثر بھی ہے لیکن ’چٹان‘ کا لفظ سامع کو بھی متحرک کرتا ہے کہ سخت چٹان پر جب پرندہ گراہو گا تو آواز بھی آئی ہو گی گویا ہلکے سے گولی چلی ہو۔ اب ایک شعر یہ دیکھیے جس کا پیکر بالکل مختلف طرح سے کام کرتا ہے :

چوما ہے میرا نام لبِ سُرخ نے شکیبؔ

یا پھول رکھ دیا ہے کسی نے کتاب میں

یہاں پیکر کسی قصّے‘ کسی وقوعے کے تازہ ہونے کے لیے اشارہ (Signal)بن جاتا ہے۔ ہمیں فوراً یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ یہ وقوعہ (کتاب واقعی متکلم ہی کی کتاب ہے‘ اور کتاب پر اس کا نام واقعی لکھا ہوا ہے اور اس نام کو واقعی کسی نے چوما ہے‘ یا صرف سرخ پھول ہے ‘ یا وہ بھی نہیں ہے ‘ صرف روشنائی کا نشان ہے‘ وغیرہ) محض خیالی بھی ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شاعر نے دوسر ے مصرعے میں لفظ ’یا ‘ رکھ کر یہ اشارہ رکھ دیا ہے کہ سارا وقوعہ فرضی اور تخیلی بھی ہو سکتا ہے ‘ اور مصرع اولیٰ میں جو کہا گیا ہے‘ دوسرا مصرع اس کی تعریف میں بھی ہو سکتاہے۔ بدیعیات (Rhetoric)کو پیکر کی پشت پناہی پر لانے کی ایسی مثال غالب اور میر کی یہاں بہت ہے‘ جدید شاعری میں کم۔

اب ایک ہی غزل کے کچھ اشعار کسی لسانی تجزیے کے بغیر‘ مگر بہت مختصر اشاروں کے ساتھ پیش کرتا ہوں :

کمرے خالی ہو گئے‘ سایوں سے آنگن بھر گیا

ڈوبتے سورج کی کرنیں جب پڑیں دالان پر

یہاں ’خالی ہو گئے‘ کا فقرہ ’سایوں سے آنگن بھر گیا‘ کے ساتھ بیک وقت سکوت‘ بلکہ موت کی سی خاموشی‘ اچانک لیکن بے آواز حرکت‘ اور اندھیرے کے تاثر پیدا کرتا ہے۔ کمرے کیوں خالی ہو گئے‘ اس سے فی الحال تعرض نہیں۔ لیکن اگلے مصرعے میں ڈوبتے سورج کی سرخ نارنجی روشنی دالان پر پڑی ہے‘ گویا آنگن کو چھوڑتی ہوئی آئی ہے‘ حالاں کہ آنگن پہلے ہے‘ دالان بعد میں۔ خداجانے کس زاویے سے روشنی یہاں پہنچی کہ بڑی اور وسیع کھلی ہوئی جگہ کو چھوڑ کر نسبتاً تنگ دالان میں اتری اور اس روشنی کے آتے ہی کمروں میں بے رنگ خلا اور آنگن میں مبہم سائے بھر گئے۔ ’خالی کمرے‘ اور ’سایوں ‘ سے بھرے ہوئے‘ یا بھرتے ہوئے آنگن میں ایک نیا تعلق پیدا ہو رہا ہے۔ کیا کمروں کے مکین سائے میں تبدیل ہو کر آنگن میں گم کردہ راہ روحوں کی طرح بھٹک رہے ہیں ؟ مگرکیوں ؟ یہاں روشنی اور سایہ (تاریکی) کے پیکروں میں ایک پراسرار سی سازش نظر آتی ہے۔ ڈوبتے سورج کا پیکر اب کسی محبوب یا محترم ہستی کی قائم مقامی کرتا ہے‘ یا علامت ہے۔ کمرے اس لیے خالی ہیں کہ ان کے مکین باہر نکل کر ڈوبتے سورج کا ماتم کر رہے ہیں اور سیاہ پوش ہونے کے باعث سایوں جیسے لگ رہے ہیں۔ معنی کے ان مختلف النوع امکانات کو ایک طرف رکھئے اورشعر کو محض ایک خواب یا خواب میں بنائی ہوئی تصویر سمجھیے۔ اب ڈوبتے سورج کی کرنیں ‘ خالی کمرے‘ سایوں سے بھرا ہوا آنگن ‘ اختتام حیات‘ یا کسی قصے کے ختم ہونے کا پیکر خلق کرتے ہیں :

اب یہاں کوئی نہیں ہے‘ کس سے باتیں کیجیے

یہ مگر چپ چاپ سی تصویر آتش دان پر

اس شعر میں لفظ ’آتشدان‘ پر توجہ کیجیے۔ آتشدان پر کسی کی تصویر ٹنگی ہوئی ہے۔ آتش دان میں آگ ہو نہ ہو‘ لیکن راکھ اور چتا اور آتش زنی کے پیکر صاف جھلکتے ہیں۔ آتشدان پر تصویر کس کی ہے‘ یہ بات واضح نہیں ہوئی‘ لیکن یہ تصویر کسی گزشتہ معشوق کی ہو سکتی ہے جس کے دل میں محبت کا شعلہ اب بجھ چکا ہے‘ یا شاید یہ خود متکلم ہے جس کے دل کی آگ ٹھنڈی ہوچکی ہے۔ لیکن اب زندگی میں وہ مرحلہ ہے اور اس منزل کا سامنا ہے جب ہر ساتھی چھوٹ گیا ہے۔ صرف ایک شخص کی یاد ہے‘ وہ بھی خاموش اور غیر متعلق‘ سروکاروں سے عاری‘ جیسے دیوار پر کوئی تصویر جو کسی خاص نکتے یا معنی کی حامل نہیں۔ یہاں متکلم نے یہ بتا کر کہ وہ تصویر آتش دان پر لٹکی ہوئی ہے ‘ آگ اور عشق جہاں سوز‘ اور روشنی‘ اور حرارت کے پیکروں کو یکجا کر دیا ہے۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ یہ جگہ کوئی اجنبی جگہ ہو جہاں متکلم ایک رات کے لیے ٹھہرا ہے یا ٹھہرایا گیا ہے۔ اب خالی کمرے کا منظر کسی عارضی قیام گاہ‘ کسی مہمان خانے‘ اور اس سے بھی بڑھ کر کسی ایک ایسی جگہ کا پیکر خلق کرتا ہے جو پہلے بہت بھری پُری تھی لیکن اب ویران ہو گئی ہے۔ اس زاویے سے دیکھیں تو لفظ ’اب‘ اور ’چپ چاپ سی تصویر‘ مل کر اجاڑ ماحول یا سنسان گھر کا پیکر خلق کرتے ہیں ‘ ایساگھر جس کے مکین گھر چھوڑ گئے ہیں۔ کیوں گھر چھوڑ گئے ہیں ؟ یا شاید مر گئے ہیں ‘ کسی جنگ کی تباہ کاری کے باعث‘ کسی زلزلے یا وبا کے چلتے؟ سب امکانات موجود ہیں۔ لیکن لفظ ’اب‘ سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ متکلم جہاں ہے وہاں شام کو‘ یاد ن میں کسی وقت اور بھی لوگ تھے۔ شاید کوئی جشن ہُو ا ہو‘ کوئی ملاقات نو (reunion)کا سلسلہ رہا ہو۔ اب خدا معلوم کس باعث اب سب لوگ جا چکے ہیں اور متکلم اکیلا رہ گیا ہے۔

یہاں جارج مور George Mooreکا مشہور بند یاد آتا ہے :

I feel like one

Who treads alone،

Some banquet hall deserted

Whose lights are fled،

Whose garlands dead

And all but he departed

بے شک جارج مور کے مصرعوں اور پیکروں میں کیفیت کا وفور ہے‘ لیکن شکیب جلالی کے شعرمیں خاموش درد کئی معنی رکھتا ہے اور کفایت کے ساتھ ادا ہوا ہے۔ یہیں سے تنہائی کے پیکر کا ایک اور روپ ابھرتا ہے: یہ سارا منظر محض اِستعارہ ہے‘ متکلم کے دل اور روح کا۔ اس کی تنہائی کا کوئی شریک نہیں ‘ صرف کسی گزشتہ واردات کی یاد ہے‘ او ردل کے آتش کدے پر ٹنگی ہوئی ’’چپ چاپ سی‘ ‘ تصویر اسی واردات کی علامت ہے۔ ’’چپ چاپ سی ‘ ‘ میں یہ نکتہ پوشیدہ ہے کہ وہ تصویر کچھ کچھ کہتی ہوئی بھی معلوم ہوتی ہے :

بس چلے تو اپنی عریانی کو اس سے ڈھانپ لوں

نیلی چادر سی تنی ہے جو کھلے میدان پر

کھلے میدان پر تنی ہوئی نیلی چادر آسمان کا استعارہ بھی ہو سکتی ہے لیکن ممکن ہے کہ یہ محض پیکر ہو۔ صبح یا شام کی ہلکی روشنی میں میدان پر شبنمی دھند ہے اور کہیں کہیں مکڑی کے باریک تاروں کا جال ہے جس پر شام یا صبح کی اوس کی بوندیں ہیں اور روشنی ان بوندوں سے منعکس ہوکر ہلکے نیلے رنگ کا التباس پیدا کررہی ہے۔ اب اپنی عریانی کا پیکر بھی استعاراتی جہت اختیار کر لیتاہے۔ یعنی یہ عریانی متکلم کے بے سہارا اور تنہا ہونے کا استعارہ ہے‘ اور زمین پر پھیلی ہوئی نیلی روشنی کی چادرسے اپنی عریانی کو ڈھانپنے کی تمنا موت کی آرزو کا استعارہ ہے۔ یا پھر یہ عریانی متکلم کے ذہنی اور جذباتی طور پر مجروح ہونے کا استعارہ ہو سکتی ہے ‘ جیسے بہت حساس شخص کے بارے میں انگریزی میں کہتے ہیں کہ اس کی جلد بہت باریک ہے۔ لہٰذا تن کی عریانی درحقیت روح کے غیر محفوظ اور دل کے مجروح ہونے کا اشار ہ ہے۔

تن کی عریانی میں سیاہ رنگ کا اشارہ بھی ہے‘ یعنی تنِعریاں کا پیکر اگر معشوق کے لیے ہے تو کچھ اورمعنی رکھتا ہے اور اگر متکلم یا عاشق کے لیے ہے تو کچھ اور معنی رکھتا ہے۔ جسم جل کر کوئلہ ہو گیا ہے‘ یا جسم اصلاً سیاہ رنگ ہی کا ہے‘ جیسا کہ ہم مشرقیوں کا اکثر ہو تا ہے۔ اب آسمان کا نیلا رنگ ‘ زمیں پر نیلی روشنی جو شاہانہ اعتماد و اطمینان اور قلبی سکون کا استعارہ ہیں ‘ سیاہ جسم والے متکلم کو اپنے رنگ میں رنگتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن رنگوں کے اس کھیل میں روشنی(سفیدی) اور عریاں تنی(سیاہی)‘ شب‘ خواب‘ نیند (سیاہی اور نیلا پن) ‘ کھلا میدان (سبزی اور سیاہی) ‘ چاندنی (پھول بھی اور چاند کی روشنی بھی) کی کرامات نہیں دکھائی دیتیں۔ ان کے لیے تو میر کا دروازہ دیکھنا پڑے گا۔ میر‘ دیوان اول :

شب خواب کا لباس ہے عریاں تنی میں یہ

جب سوئیے تو چادر مہتاب تانیے

یہ ملنگ پن ‘ یہ درویشی طنطنہ‘ یہ انداز بے پروا خرام‘ یہ اپنے اوپر ہنس لینے کی صلاحیت‘ یہی جہتیں شکیب جلالی کی شاعری میں نہیں ہیں۔ ممکن ہے عمر کے ساتھ انھیں یہ چیز بھی حاصل ہوجاتی۔ پچیس تیس برس کے نوجوان سے آپ کتنا اور کس کس چیز کا تقاضا کر سکتے ہیں :

وہ خموشی انگلیاں چٹخا رہی تھی اے شکیبؔ

یا کہ بوندیں بج رہی تھیں رات روشن دان پر

آوازکے پیکر کو خاموشی کے تصور کی شکل میں فرض کرنا غیر معمولی بات تو ہے ہی‘ لیکن یہاں بھی دوسرے مصرعے میں لفظ ’یا‘ بدیعیاتی کیفیت رکھتا ہے‘ یعنی روسی ہیئت پسندوں کی زبان میں بدیعہ (Device)ہے۔ یہ لفظ سارے منظر نامے کو یقینی یامشاہداتی سطح سے ہٹا کر ظنی یا واہماتی سطح پر لے جاتا ہے۔ خاموشی ہی متکلم کی اصل مونس ہے‘ حتیٰ کہ وہ اسے صاحب جسم و جان فرض کرنے لگتا ہے۔ اسے جب رات کی تنہائی میں اچانک بوندوں کی پٹ پٹ سنائی دیتی ہے تو وہ گمان کرتا ہے کہ گھر کے سناٹے سے اکتا کر خاموشی انگلیاں چٹکا رہی ہے۔ لیکن لفظ ’یا‘ کی وجہ سے واہمے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے‘ کہ ایسا تھا بھی یا شاید نہیں بھی تھا۔ یا شاید نہیں ہی تھا۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ ناصر کاظمی نے یہ پیکر پہلے حاصل کیا کہ شکیب جلالی نے ‘ لیکن ناصر کاظمی کا شعر یاد کرلینا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا :

خموشی انگلیاں چٹخا رہی ہے

تری آواز اب تک آرہی ہے

یہ شعر’برگ نے‘ میں ہے (اشاعت‘ ۱۹۵۴ ) اور شکیبؔ جالی کے مختصر مجموعے کے بھی ربع اوّل میں ہے۔ لہٰذا اغلب ہے کہ دونوں نے آگے پیچھے اپنے شعر کہے ہوں۔ لیکن شکیب جلالی کے تخیل کا کمال یہ ہے انہوں نے آواز (شیشے پر بارش کی بوندوں کی ہلکی ٹپ ٹپ) کو خاموشی کا تفاعل بنا دیا ہے۔ علاوہ بریں ‘ بوندوں کے بجنے کا پیکر (بوندیں بج رہی تھیں ) محض آواز آنے کے پیکر (تری آواز اب تک آرہی ہے) سے بہت زیادہ قوی ہے اور پھر انگلیوں کی چٹ چٹ اور معشوق کی آواز میں کچھ ایسی مناسبت بھی نہیں۔

شکیب جلالی کے یہاں غم یا درد مندی کا آہنگ صرف ظاہری حالات یا ذاتی محرومیوں کی بنا پر نہیں ‘ لیکن ان کا شاعرانہ کمال یہ ہے کہ وہ تمام ناکامیوں کو اپنے ذاتی تجربے کے روپ میں دیکھنے پر قادر ہیں۔ ان کے یہاں غم جاناں اور غم دوراں کی تفریق بے معنی ہے۔ اور نہ ہی اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم ا ن کے شعروں میں سیاسی معنی‘ یا معنی نہیں تو کم سے کم سیاسی اشارے ہی ڈھونڈیں۔ کبھی کبھی وہ ٹی۔ ایس۔ الیٹ کے بڈھے کی بات اپنی زبان میں کہتے نظر آتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے جان لیا ہے اس کے بعد نہ معافی ہے نہ بخشایش۔ نہ خوف ہی ہمارے لیے راہ نجات ہے اور جیالا پن ہمیں بچا سکتاہے۔ ہم جان پر کھیل جاتے ہیں لیکن اس کے نتیجے میں غیر فطری رذائل پیدا ہوتے ہیں۔ ہمارے گستاخ جرائم کو حسنات کہہ کر ہم پر ٹھونسا جاتاہے :

Think

Neither fear nor courage saves us۔

Unnatural vices

Are fathered by our heroism۔ Virtues

Are forced upon us by our impudent crimes۔

(T۔ S۔ Eliot: Gerontion)

ان دل ہلادینے والے مصرعوں کے سامنے شکیب جلالی کی آواز کسی بچے کی سسکی معلوم ہوتی ہے‘ لیکن درد مندی دونوں کے یہاں ایک ہی طرح کی ہے۔ دونوں ہی کائناتی مصائب کو ذاتی مصائب کی زبان میں لکھ رہے ہیں۔ یہ شعر ملاحظہ ہوں۔ مختلف غزلوں کے ہیں لیکن ان کے سروکار‘ ان کی الجھنیں اور خوف‘ سب متحد ہیں :

وہ گل نہ رہے‘ نکہتِ گل خاک ملے گی

یہ سوچ کے گلشن میں صَبا تک نہیں آتی

شاید ہی کوئی آسکے اس موڑ کے آگے

اس موڑ کے آگے تو قضا تک نہیں آتی

یہ جان لینا وہاں بھی کوئی کسی کی آمد کا منتظر تھا

کسی مکاں کے جو بام و در پر بجھے دیوں کی قطار دیکھو

اور بھی کچھ بھڑکنے لگا میرے سینے کا آتش کدہ

راس تجھ بن نہ آیا کبھی سبز پیڑوں کا سایہ مجھے

کس دشت کی صدا ہو‘ اتنا مجھے بتا دو

ہر سو بچھے ہیں رستے آؤں تو میں کدھر سے

ان اشعار کو غزل کے محض عشقیہ اشعار کہنا ان کی قیمت کم کرنا ہے۔ ہر شعر میں نارسائی اور ناکامی کا المیہ کائناتی قوت بن کر روشن ہوا ہے۔ شکیب جلالی کے یہاں کیفیت بہت ہے‘ یعنی ان کے شعر دل پر فوراً اثر کرتے ہیں۔ بات سمجھ میں آئے نہ آئے لیکن اچھی لگتی ہے۔ اس صفت نے (مثلاً) فیض جیسے شاعر کو فائدہ پہنچایا کہ سامع/قاری شعر کے سحر میں کھو جاتا ہے اور مضامین کی تکرار‘ یا معنی کی کمی اُسے کسی خلجان میں نہیں ڈالتی۔ شکیب جلالی کا معاملہ دوسرا ہے۔ ان کے شعر میں کیفیت اپنا کام اس قدر بھر پور کرتی ہے کہ معنی کی طرف توجہ نہیں جاتی۔ غزل کے شعر پر غور کرنے کا رواج ہمارے یہاں عام نہیں ‘ لہٰذا ہم شکیب جلالی کے معنی کو سمجھنے پر زیادہ زور نہیں دیتے اور کیفیت پر واہ واہ کر لیتے ہیں۔ ورنہ مندرجہ بالا اشعار کی تشریح میں بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ شکیبؔ کے معنی کو پورا پورا سمجھنے کے لیے پچھلے زمانے‘ بلکہ پچھلے زمانوں کی شاعری سے بھی تھوڑی بہت واقفیت ضروری ہے‘ کیوں کہ ان کے شعر اکثر دوسرے شعروں کی طرف راہ سجھاتے ہیں۔ مثال کے طور پر شکیب جلالی کا بظاہر بالکل سامنے کا شعر ہے :

جو داستاں نہ بنے دَر د ‘ بے کراں ہے وہی

جو آنکھ ہی میں رہے وہ نمی سمندر ہے

اب اس کے سامنے محمد دین تاثیر کا یہ شعر رکھیے :

متاعِ درد وہ آنسو جو دل میں ڈوب گئے

زمیں کا رزق جو آنسو نکل ہی آتے ہیں

تو معنی کی نئی جہت نظر آتی ہے۔ لیکن خاموش جلنا ‘ سب کچھ دیکھنا اور کچھ ظاہر نہ کرنا‘ اس مضمون کی رنگینی کو پوری طرح سمجھنے کے لیے ہمیں اور بھی شعر یاد آئیں تو بہتر ہے۔ آئینہ بازار میں لٹکا ہوا ہے‘ گویا سولی پر ہے‘ کیوں کہ اس نے جمالِ محبوب کو دیکھا اور اسے ظاہر کر دیا‘ اپنے اندر ضبط نہ کر سکا۔ سحابی استر آبادی کی رباعی ہے :

دیروز بہ بازار شدم بشگفتم

آئینہ آویختہ دیدم گفتم

آخر چہ گناہ داری اے آئینہ

گفتا کہ جمال دیدم و ننہفتم

لیکن دیکھنا اور ضبط کرنا‘ جلنا اور چھپ کر‘ چھپا چھپا کر جلنا‘ صرف تمکین و ضبط کی بات نہیں۔ اس میں لطف بھی ہے اور یہ آداب حیات میں بھی ہے۔ شکیبؔی صفاہانی کہتے ہیں کہ شمع کے آگے جل کر خاک ہونے والے پروانے کو غائبانہ سوختن کا لطف ہی نہیں معلوم ہو سکا :

پروانہ نیک رفت کی در پیش شمع سوخت

آگہ نہ شد کہ سوختن غائبانہ چیست

غالب کو غم تھا کہ میں ایسے گلشن کا عَندلیب ہوں جو نا آفریدہ ہے۔ اور شاید ہمیشہ ناآفریدہ ہی رہے گا۔ یہ اظہار کی نارسائی ‘ یا شاعر کی بصیرت دوسروں پر منکشف ہوسکنے کی انتہائی اور ابتدائی منزل ہے۔ بیچ کا افسانہ سننا ہو تو شکیب جلالی سے سنیے :

ہوا کے دشت میں تنہائی کا گزر ہی نہیں

مرے رفیق ہیں مطرب گئے زمانوں کے

شکیب جلالی نے ہمارے زمانے کا درد اور کائنات کی وسعت میں ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے جدید انسان کے المیے کو اپنے ہی رنگ اور اپنی ہی زبان میں بیان کیا ہے۔ ان کی آواز کا منظم حسن انھیں کے ساتھ ختم ہو گیا۔

داستان عہد گل را از نظیری می شنو

عندلیب آشفتہ ترگفت است ایں افسانہ را

شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s