شعورِ آزادی

بہشتِ شوق میں ڈھالیں گے خاکدانِ وطن

تلاشِ حُسن میں گرداں ہیں عاشقانِ وطن

دھواں دھواں ہی سہی کوچہِ بتانِ وطن

جبیں کے پاس تو ہے سنگِ آستانِ وطن

عیاں ہیں خونِ شہیداں کی عظمتوں کے نقُوش

زبانِ لالہ و گُل پر ہے داستانِ وطن

نسیمِ صبح کے جھونکے ذرا سہارا دے

اُبھر رہے ہیں اندھیروں سے خستگانِ وطن

وہ منتہیٰ نہ سہی کوئی سنگِ میل سہی

کسی مقام پہ پہنچا تو کاروانِ وطن

ہر ایک کُنج یہاں قابلِ نظارہ ہے

بس ایک گوشے پہ کیوں کیجیے گمانِ وطن

ہجومِ تشنہ لَباں دیکھتا ہے حسرت سے

غریقِ بادہ و ساغر ہیں خواجگانِ وطن

ہوا چلے تو فضائیں دمکنے لگتی ہیں

تہی نہیں ہے شراروں سے خاکدانِ وطن

اسے جسارت بے جا نہیں تو کیا کہیے

جنوں سے آنکھ ملاتے ہیں خسروانِ وطن

سدا دبی نہ رہے گی ضمیر کی آواز

یہ ایک مات بھی کھائیں گے شاطرانِ وطن

ابھی تو اور بڑھے گا شعورِ آزادی!

ابھی تو خواب سے چونکے ہیں ساکنانِ وطن

شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s