شعلہِ دل

کبھی کبھی تو سرِ راہ دیکھ کر ہم کو

تمھارے سر سے بھی آنچل سرک ہی جاتا ہے

تمھاری عنبریں زُلفوں کی تیز لپٹوں سے

ہمارا سینہِ ویراں مہک ہی جاتا ہے

کوئی تو بات ہے جو ہم کو مُلتفت پآ کر

بصد غرور کبھی مسکرا بھی دیتی ہو

اداے خاص سے لہرا کے، رقص فرما کے

ہمارے شعلہِ دل کو ہوا بھی دیتی ہو

کبھی بہ پاسِ تقدّس، ہماری نظروں سے

اُلجھ کے ٹوٹ گئی ہے تمھاری انگڑائی

قسم خدا کی بتاؤ بوقتِ آرایش

حضورِ آئنہ تم کو حیا نہیں آئی

ہماری شورشِ جذبات کے تخاطب پر

تمھارے ہونٹ یقینا پھڑکنے لگتے ہیں

وُفورِ شوق کی رِم جِھم سے شوخ سینے میں

کبھی کبھی تو کئی دل دھڑکنے لگتے ہیں

اب اپنے نیم تغافل سے باز آجاؤ

تمھیں غرور ہی لازم ہے سرکشی تو نہیں

ہمارے ذوقِ طلب کے جواب میں حائل

ذرا سی شرم و حیا ہے ستم گری تو نہیں

نظر ملا کے محبّت کا اعتراف کرو

جو کرسکو تو حقیقت سے انحراف کرو

شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s