سوادِ شب میں ستارے مجھے قبول نہیں

بجھے بجھے سے شرارے مجھے قبول نہیں
سوادِ شب میں ستارے مجھے قبول نہیں
یہ کوہ و دشت بھی آئینہِ بہار بنے
فقط چمن کے نظارے مجھے قبول نہیں
تمھارے ذوقِ کرم پر بہت ہوں شرمندہ
مراد یہ ہے سہارے مجھے قبول نہیں
مثالِ موج سمندر کی سمت لوٹ چلو
سُکوں بدوش کنارے مجھے قبول نہیں
میں اپنے خوں سے جلاؤں گا رَہ گزر کے چراغ
یہ کہکشاں، یہ ستارے مجھے قبول نہیں
شکیبؔ! جس کو شکایت ہے کُھل کے بات کرے
ڈھکے چُھپے سے اشارے مجھے قبول نہیں
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s