زخمِ جگر و داغِ جبیں میرے لیے ہے

یہ پھول نہ وہ ماہِ مبیں میرے لیے ہے
زخمِ جگر و داغِ جبیں میرے لیے ہے
پلکوں پہ سجاؤں کہ اسے دل میں چُھپاؤں
شبنم کا گُہرتاب نگیں میرے لیے ہے
اپنے کسی دُکھ پر مری آنکھیں نہیں چھلکیں
روتا ہوں کہ وہ آج غمیں میرے لیے ہے
دیوار جُدائی کی اٹھاتی رہے دنیا
اب وہ رگِ جاں سے بھی قریں میرے لیے ہے
آتی ہے ترے پائے حنائی کی مہک سی
مخمل سے سوا فرشِ زمیں میرے لیے ہے
رقصاں ہیں بہر گام تری یاد کے جگنو
اب دشت بھی فردوسِ بریں میرے لیے ہے
چاہے گا اسے کون، شکیبؔ اتنی لگن سے
وہ شمعِ فروزاں ہو کہیں، میرے لیے ہے
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s