زخموں کی طرح سِینہِ سوزاں میں رہے پُھول

شاخوں پہ رہے اور نہ داماں میں رہے پُھول
زخموں کی طرح سِینہِ سوزاں میں رہے پُھول
دوشیزگیِ رنگ کے لُٹ جانے کا ڈر تھا
سہمے ہوئے آغوشِ بہاراں میں رہے پھول
کیا کم ہے یہ احسان ترا یادِ بہاراں !
ہمراہ مِرے گوشہِ زنداں میں رہے پُھول
شُعلہ صفت و بَرق شعار و شفق انداز
کیا کیا نہ مِرے دیدہِ حیراں میں رہے پھول
اک موجِ بلاخیز بہا لے گئی آخر
کچھ دیر تو کنجِ خسِ مِژگاں میں رہے پُھول
اک طرفہ تماشا تھی بدلتی ہوئی رُت بھی
غیروں کی طرح اپنے گلستاں میں رہے پُھول
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s