رہِ حرم نہ سہی یہ تری گلی بھی نہیں

سُکوں نہیں ہے، مگر اب وہ بے کلی بھی نہیں
رہِ حرم نہ سہی یہ تری گلی بھی نہیں
ہَواے شہر سے کیوں آئے بُوے رُسوائی
کہ موجِ راز کبھی ناز سے چلی بھی نہیں
ابھی کہاں شبِ وعدہ کے سرمئی آثار
ابھی تو دھوپ درِ یار سے ڈھلی بھی نہیں
ہم اپنی روشنیِ دل پہ کیوں نہ نازاں ہوں
کہ شمعِ درد، دلِ غیر میں جَلی بھی نہیں
نگاہِ رنگ کے جادو پہ مرمٹے لیکن
گُلِ حیات فقط رنگ کی ڈلی بھی نہیں
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s