رہتا ہے اپنے نور میں سورج چُھپا ہُوا

وہ سامنے تھا پھر بھی کہاں سامنا ہُوا
رہتا ہے اپنے نور میں سورج چُھپا ہُوا
اے روشنی کی لہر‘ کبھی تو پلٹ کے آ
تجھ کو بُلا رہا ہے دریچہ کُھلا ہُوا
سیراب کس طرح ہو زمیں دور دور کی
ساحل نے ہے ندی کو مقیّد کیا ہُوا
اے دوست! چشمِ شوق نے دیکھا ہے بارہا
بجلی سے تیرا نام گھٹا پر لکھا ہُوا
پہچانتے نہیں اسے محفل میں دوست بھی
چہرہ ہو جس کا گردِ اَلَم سے اَٹا ہُوا
اس دَور میں خلوص کا کیا کام اے شکیبؔ
کیوں کر چلے! بساط پہ مہرہ پِٹا ہُوا
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s