رُوپ کی مایا جن کو کر کر لمبے ہات مِلے

کاسہِ سر کو ان سے کچھ پتھر خیرات مِلے
رُوپ کی مایا جن کو کر کر لمبے ہات مِلے
یُوں سِمٹا بیٹھا ہُوں اندھیارے کی بانہوں میں
بھولے بھٹکے شاید تیری زُلف کی رات مِلے
کاش اک ایسی صُبح بھی آئے ہجر کی رات کے بعد
جب میں سو کر اُٹھوں ہات میں تیرا ہات مِلے
شہرِسمن کو چھوڑا جن کی یاد سے گھبرا کر
بَن میں وُہ قاتل لمحے گرد کی صورت سات ملیِ
تم سے جیالے انساں ہم نے کم دیکھے ہیں ، شکیبؔ
اس کوچے میں یوں تو اور بہت حضرات ملے
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s