روشنیوں کے دشمن

روشنیوں کے دشمن ادھر آرہے ہیں

ڈھانپ دو قمقمے

لالٹینوں پہ مل دو سیاہی کا زہر

روشنیوں پہ مَنڈھ دو اندھیرے کے بوجھل غلاف

کھڑکیوں سے نہ نکلے اُجالے کی مدّھم سی لہر

رَوزنوں سے بھی جھانکے نہ کوئی سجیلی کرن

آرہے ہیں ادھر روشنیوں کے دشمن

روشنیوں کے دشمن

اُجالوں کے قاتل‘

شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s