رات کے پچھلے پہر

شام ہی سے تھی فضا میں کسی جلتے ہوئے کپڑے کی بساند

اور ہوا چلتی تھی جیسے

اس کے زخمی ہوں قدم

دیدہِ مہر نے انجانے خطر سے مڑ کر

جاتے جاتے بڑی حسرت سے کئی بار زمیں کودیکھا

لیکن اس سبز لکیر

اس درختوں کی ہری باڑ کے پار

کچھ نہ پایا۔ کوئی شعلہ نہ شرار

اورپھر رات کے تنور سے ابلا پانی

تیرگیوں کا سیہ فواراہ

دیکھتے دیکھتے تصویر ہر اک چیز کی دھندلانے لگی

دور تک کالے سمندر کی ہمکتی لہریں

ہانپتے سینوں کے مانند کراں تابہ کراں پھیل گئیں

اور جب رات پڑی

سسکیاں بن گئیں جھونکوں کی صدا

دم بخود ہو گئے اس وقت درو بام

جیسے آہٹ کسی طوفاں کی سُنا چاہتے ہوں

آنکھیں مل مل کے چراغوں کی لوؤں نے دیکھا

لیکن اس سبز لکیر

اس درختوں کی ہری باڑ کے پار

کچھ نہ پایا۔ کوئی شعلہ نہ شرار

رات کے پچھلے پہر

ناگہاں نیند سے چونکی جو زمین

اس کی ہونٹوں پہ تھی غم ناک کراہ‘

کرب انگیز کراہ

اس کے سینے پہ رواں

بوٹ لوہے کے گمکتے ہوئے بوٹ

جس طرح کانچ کی چادر پہ لڑھکتی ہوئی پتھر کی سلیں

ہر قدم ایک نئی چیخ جنم لیتی تھی

خاک سے دادِ ستم لیتی تھی

شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s