دیوانوں کی تکراروں سے، خاموشیِ بیاباں ٹوٹ گئی

وحشت کے ان معماروں سے، بنیادِ ایواں ٹوٹ گئی
دیوانوں کی تکراروں سے، خاموشیِ بیاباں ٹوٹ گئی
اے عزمِ جواں شورش کیسی، اب تک تو یہ سنتے آئے ہیں
دو نازک سی پتواروں سے، ہر جرأتِ طوفاں ٹوٹ گئی
تخیئل کی دَرپردہ ضربیں، وحشی کا سہارا بن ہی گئیں
زنجیروں کی جھنکاروں سے، پابندیِ زنداں ٹوٹ گئی
زنداں کی اندھیری راتوں میں، جینے کا سہارا ختم ہُوا
افسوس کہ ان بے چاروں سے، تصویرِ گلستاں ٹوٹ گئی
دیوانوں نے آخر گلشن، رو رو کے بیاباں کر ڈالا
آنکھوں کے لرزتے پاروں سے، دیوارِ گلستاں ٹوٹ گئی
قسمت کی کرشمہ سازی تھی یا لُطف و کرم ملّاحوں کا
ٹکرا کر خشک کناروں سے پروردہِ طوفاں ٹوٹ گئی
دکھ درد کے ماروں کا ہر غم، ساغر کی کھنک میں ڈوب گیا
پیمانوں کی جھنکاروں سے فکرِ غمِ دوراں ٹوٹ گئی
بارِ غمِ اُلفت اُٹھ نہ سکا، کم ظرفوں کی نبضیں چھوٹ گئیں
افسوس ہے ان بیماروں سے، توقیرِ غمِ جاں ٹوٹ گئی
ہستیِ شکیبؔ زار کو، رنج و غم کے ہی چرکے کافی تھے
ان نازک سی دیواروں سے تعمیرِ دل و جاں ٹوٹ گئی
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s