دلاسے

یہ لرزتے ہوئے حسیں آنسو

میرے عزمِ سفر میں حائل ہیں

مجھ میں اب ضبطِ غم کی تاب نہیں

میرے قلب و جگر بھی گھایل ہیں

ہجر کو ہجر کیوں سمجھتی ہو

صرف احساس پر ہے غم کا مدار

میں نے دیکھا ہے حوصلوں کے طفیل

ہو گئے ہیں اَلَم نشاط آثار

جب کوئی شے ہی پائدار نہیں

دُکھ کے لمحے بھی بیت جائیں گے

غم کا انجام مُسکراہٹ ہے

پھر خوشی کے زمانے آئیں گے

لذّتِ درد بڑھتی رہتی ہے

زخم ہر بار کُھل کے سِلنے میں

مستقل قُرب میں وہ بات کہاں

جو مزا ہے بچھڑ کے ملنے میں

یوں نہ ضائع کرو خدا کے لیے

اپنے اشکوں کے سیم پاروں کو

ان کو صرفِ خوشی بھی ہونا ہے

پونچھ لو قیمتی ستاروں کو

تم سے ملنے کے واسطے ہر دم

اپنے دل میں خلش سی پاؤں گا

جانِ من اس قدر اُداس نہ ہو

میں بہت جلد لوٹ آؤں گا

شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s