دامن بچا کے گزرو‘ یادوں کی رہ گزر سے

اس خاکد اں میں اب تک باقی ہیں کچھ شررسے
دامن بچا کے گزرو‘ یادوں کی رہ گزر سے
ہر ہر قدم پہ آنکھیں ‘ تھیں فرشِ راہ، لیکن
وہ روشنی کا ہالا‘ اُترا نہ بام پر سے
کیوں جادہِ وفا پر‘ مشعل بکف کھڑے ہو
اس سیلِ تیرگی میں ‘ نکلے گا کون گھر سے
کس دشت کی صدا ہو‘ اتنا مجھے بتا دو
ہر سُو بچھے ہیں رستے‘ آؤں تو میں کدھر سے
اُجڑا ہُوا مکاں ہے یہ دل‘ جہاں پہ ہر شب
پرچھائیاں لپٹ کر روتی ہیں بام و در سے
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s