خلافِ حُسنِ توقع بہار گزری ہے

کسی کے پاے شکستہ پہ بار گزری ہے
خلافِ حُسنِ توقع بہار گزری ہے
وقارِ حسن بہ تمثیلِ برق کیوں ہے آج
صداے درد تھی سیماب وار گزری ہے
خزاں کا عکس ہی دیکھا ہے صبحِ گلشن میں
بشکلِ آینہ موجِ بہار گزری ہے
یہ جَاں بلب سے شگوفے یہ مُردہ رنگ کنول
یہاں سے رحمتِ ابرِ بہار گزری ہے!
رِداے حسن کے ٹکڑے فضا میں پھیلے ہیں
مری نگاہ بصد انتشار گزری ہے
شکیبؔ! فرطِ عقیدت میں کہہ گئے ہیں وہ بات
جو آگہی پہ بہت ناگوار گزری ہے
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s