خانہ بدوش

یہ جنگل کے آہو، یہ صحرا کے راہی

تصنّع کے باغی، دلوں کے سپاہی

فقیری لبادے تو انداز شاہی

یہ اکھڑ ‘ یہ انمول‘ بانکے سجیلے

یہ خانہ بدوشوں کے چنچل قبیلے

مصائب سے کھیلے حوادث کے پالے

ہیں روشن جبیں ‘ گو ہیں پاؤں میں چھالے

یہ پیتے ہیں ہنس ہنس کے تلخی کے پیالے

کہ جیسے کوئی مَدھ بھرا جام پی لے

یہ خانہ بدوشوں کے چنچل قبیلے

طلب آشیاں کی نہ فِکرِ قفس ہے

نہ دولت کی پروا‘ نہ زر کی ہوس ہے

زباں میں گھلاوٹ نگاہوں میں رس ہے

ہیں جینے کے انداز میٹھے رسیلے

یہ خانہ بدوشوں کے چنچل قبیلے

زمانے کو چھوڑا صداقت نہ کھوئی

محبّت ہی کاٹی، محبّت ہی بوئی

نہ حاکم ہے کوئی، نہ محکوم کوئی

اُصولوں کے بندھن مگر ڈھیلے ڈھیلے

یہ خانہ بدوشوں کے چنچل قبیلے

ہے پھولوں کا بستر کبھی بَن میں ڈیرا

نہ تفریق کوئی‘ نہ تیرا نہ میرا

جہاں سب نے چاہا وہیں پر بسیرا

وہ صحرا کے گُل بن‘ وہ وادی کے ٹیلے

یہ خانہ بدوشوں کے چنچل قبیلے

ہر اک اپنی اپنی جگہ پر مگن ہے

نہ دیوارِ زنداں نہ حدِّ چمن ہے

یہاں بھی وطن ہے وہاں بھی وطن ہے

کوئی اِن سے تعلیمِ آوارگی لے

یہ خانہ بدوشوں کے چنچل قبیلے

شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s