جوالا مکھی

کروٹیں خود بھی بدلتا ہے جہاں کا محور

جب زمیں گردشِ ایّام سے تھک جاتی ہے

جسم چھل جاتا ہے دھرتی کا رگڑ کھا کھا کر

لاکھ سنگین سہی جلد مَسک جاتی ہے

………………

سنگ اَندام شگافوں سے دھواں رِستا ہے

بطنِ گیتی سے بُخارات اُبل پڑتے ہیں

ملگجی دُھند سی آفاق پہ چھا جاتی ہے

تیرہ انداز گھٹاؤں سے شرر جھڑتے ہیں

………………

ایک بجلی سی تڑپتی ہے زمیں کے اندر

چادرِ خاک بہر سِمت سمٹ جاتی ہے

شعلے اٹھنے کے لیے راہ بنا لیتے ہیں

کوہساروں کے چٹخنے کی صدا آتی ہے

………………

زلزلوں کی وہ گراں بار بھیانک ضربیں

گنبدِ عرش کی بُنیاد ہلا دیتی ہیں

پنجہِ قہر کی مضبوط کمندیں اکثر

ایک جھٹکے سے پہاڑوں کو گرالیتی ہیں

………………

کچّی دھاتوں کے جراثیم لیے دامن میں

آتشیں لاوے کا سیلاب اُمنڈ آتا ہے

پھیل جاتے ہیں بہر سمت رقیق انگارے

کُرہِ ارض حرارت سے پگھل جاتا ہے

………………

خُوں اُگلتی ہیں فضائیں تو زمیں روتی ہے

آہِ مظلوم میں تاثیر یہی ہوتی ہے

شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s