جشن بہاراں

بساطِ رنگ بچھاؤ بہار آئی ہے

حریمِ وقت سجاؤ بہار آئی ہے

نظر کے ساتھ شفق رنگ مے کا دور چلے

فضا کو مست بناؤ بہار آئی ہے

فضا کی تشنہ لَبی پر مٹھاس بِکھرا دو

رسیلے گیت سناؤ بہار آئی ہے

کوئی خوشی کا فسانہ کوئی ہنسی کی بات

لَبوں سے پھول گراؤ بہار آئی ہے

صبا کے ساتھ ملا ہے پیامِ بیداری

کَلی کَلی کو جگاؤ بہار آئی ہے

نگارِ باغ کی دوشیزگی نکھر جائے

کَلی کو پھول بناؤ بہار آئی ہے

سَحر کا رنگ، ستاروں کا نور پگھلا کر

رخِ چمن پہ پھیلاؤ بہار آئی ہے

نئی دُھنیں ہوں ، نئے ساز ہوں ، نئی تانیں

پرانے گیت نہ گاؤ بہار آئی ہے

غمِ خزاں کا چمن میں کوئی نشاں نہ ملے

اِک ایسا جشن مناؤ بہار آئی ہے

یہیں پہ جنتِ قلب و نظر کی ہو تشکیل

یہیں پہ خلد بساؤ بہار آئی ہے

شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s