جس سے ملے ہم دل سے مِلے

منھ پہ کیے سب شِکوے گِلے
جس سے ملے ہم دل سے مِلے
دُکھ میں دامن چھوڑ دیا
سُکھ میں ساتھی آن مِلے
چارہ گروں کی بات نہ کر
زخم، نہ سِلنے تھے نہ سِلے
حُسنِ تکلّم، لُطفِ بیاں
کلیاں چٹکیں، پھول کِھلے
وہ سمجھیں یا ہم جانیں
بات کہی اور لَب نہ ہلے
غم کی شدّت میں بھی، شکیبؔ
لوگوں سے ہم ہنس کے ملے
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s