جام چھلکاؤ اندھیری رات ہے

موسمِ گُل ہے، بھری برسات ہے
جام چھلکاؤ اندھیری رات ہے
رنج و غم میں زندگی پاتا ہوں میں
لطف اُن کا موجبِ صَدمات ہے
اُٹھتے جاتے ہیں نگاہوں سے حجاب
جرأتوں پر عالمِ جذبات ہے
کون سی منزل پہ لے آیا جنوں
اب مجسّم حُسن، میری ذات ہے
گِردِ رُخ زُلفیں ہیں اُن کی یا، شکیبؔ
صبح کو گھیرے اندھیری رات ہے
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s