بہ یادِ قائدِ اعظم

کفِ صبا پہ مہکتا ہوا گلاب تھا وہ

رَوش رَوش تری خوشبو سے مُشک بار ہوئی

کرن کرن ترے پَرتو سے تاب دار ہوئی

کفِ صبا پہ مہکتا ہوا گلاب تھا وہ

نگارِ موسمِ گُل کی جبیں کا داغ ہیں ہم

ہمیں سے لالہ و گُل کی قبا رفُو نہ ہوئی

ہمیں سے زحمتِ تائیدِ رنگ و بُو نہ ہوئی

نگارِ موسمِ گُل کی جبیں کا داغ ہیں ہم

مہ و نجوم کے جَھرنوں پہ نوحہ خواں ہوتے

تجھے جو خضر سمجھتے تو ہم یہاں ہوتے؟

شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s