بہتر ہے خاک ڈالیے ایسی اُڑان پر

ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر
بہتر ہے خاک ڈالیے ایسی اُڑان پر
آ کر گرا تھا کوئی پرندہ لہُو میں تر
تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر
پوچھو سمندروں سے کبھی خاک کا پتا
دیکھو ہوا کا نقش کبھی بادبان پر
یارو! میں اس نظر کی بلندی کو کیا کروں
سایہ بھی اپنا دیکھتا ہوں آسمان پر
کتنے ہی زخم ہیں مرے اک زخم میں چھپے
کتنے ہی تیر آنے لگے اک نشان پر
جل تھل ہوئی تمام زمیں آس پاس کی
پانی کی بوند بھی نہ گری سائبان پر
ملبوس خوش نما ہیں مگر جسم کھوکھلے
چھلکے سجے ہوں جیسے پھلوں کی دکان پر
سایہ نہیں تھا نیند کا آنکھوں میں دُور تک
بکھرے تھے روشنی کے نگیں آسمان پر
حق بات آ کے رُک سی گئی تھی کبھی‘ شکیبؔ
چھالے پڑے ہوئے ہیں ابھی تک زبان پر
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s