بغیرِ شکایت مصائب میں جی لے

زباں کاٹ دے اور ہونٹوں کو سی لے
بغیرِ شکایت مصائب میں جی لے
حوادث کی زَد میں بڑھے جا رہے ہیں
مری آرزوؤں کے نازک قبیلے
وہ ساتھی جسے غم سے نسبت نہیں ہے
اَلَم کو کُریدے نہ زخموں کو چھیلے
غرور و محبت میں تفریق دیکھو
یہ سونے کی وادی، یہ مٹی کے ٹیلے
ہمیں دل کی ہر بات سچ سچ بتا دو
بناؤ نہ باتیں، تراشو نہ حیلے
نہ چھیڑو، پرانے فسانے نہ چھیڑو
لہو ہی بہے گا اگر زخم چھیلے
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s