بدگمانی ہے تو ہر بات گراں گزرے گی

اب انھیں پُرسشِ حالات گراں گزرے گی
بدگمانی ہے تو ہر بات گراں گزرے گی
خواہشِ لطفِ پرستش کو مٹا دو دل سے
میری خودداریِ جذبات گراں گزرے گی
مجھ سے پہلے رُخِ سادہ کی حقیقت کیا تھی
منہ نہ کُھلواؤ، مری بات گراں گزرے گی
تم اچانک جسے ہمراہ بنا بیٹھے ہو
ایک دن تم کو وہی ذات گراں گزرے گی
پاس ہو کر بھی اگر دُور رہا مجھ سے کوئی
اور بھی تاروں بھری رات گراں گزرے گی
دل میں اظہارِ محبت پہ کوئی خوش ہو گا
ظاہراً پُھول سی یہ بات گراں گزرے گی
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s