اک موج وحشیوں پہ سِتَم کی گزر گئی

جس وقت فصلِ گُل کی قَفَس میں خبر گئی
اک موج وحشیوں پہ سِتَم کی گزر گئی
تنکے کی طرح بہ گیا ہر ساحلِ مراد
طوفانِ غم! اُمید کی کشتی کدھر گئی؟
وہ سُن کے میرا قصّہِ غم، ایسے رو دیے
جیسے گُلوں پہ شبنمِ گریاں بکھر گئی
کیا جانیے کہ مجھ کو نہیں اعتماد کیوں
تارے تو کہہ رہے ہیں شبِ غم گُزر گئی
قسمت میں ڈوب جانا ہی تھا ایک دن، شکیبؔ
ہاں ! آبروے شورشِ طوفاں مگر گئی
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s