ان کا آنا موت کا گویا بہانہ ہو گیا

آج بیمارِ محبت بھی فسانہ ہو گیا
ان کا آنا موت کا گویا بہانہ ہو گیا
ہر نَفَس پیشِ نظر رہتا ہے حُسنِ رُوے دوست
کیسے کہہ دوں ان کی فُرقت میں زمانہ ہو گیا
کہتے کہتے رُک گئے وہ جانے کیا، میر ے لیے
کچھ دلِ مضطر تعارف غائبانہ ہو گیا
اللہ اللہ جذبہِ بُلبلُ کی رنگ آمیزیاں
حُسنِ الفت سے گُلستاں آشیانہ ہو گیا
وجہِ تسکیں تھا، زمانے میں شکیبؔ زار کو
ایک دل جو تیری نظروں کا نشانہ ہو گیا
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s