اللہ کو اگر منظور نہ ہو، ہر مقصد باطل ہوتا ہے

کیا چیز ہے یہ سعیِ پیہم، کیا جذبہِ کامل ہوتا ہے!
اللہ کو اگر منظور نہ ہو، ہر مقصد باطل ہوتا ہے
اک ٹیس سی پَیہم پاتا ہوں، کیا اس کو محبت کہتے ہیں !
محسوس مجھے میٹھا میٹھا کچھ درد سا اے دل ہوتا ہے
تسکین کو دھوکا دیتے ہیں، ناکامِ تمنا یہ کہہ کر:
ہر گام پہ منزل ہوتی ہے، ہر موج میں ساحل ہوتا ہے
یہ رنج و الم ہی میرے لیے اب زیست کا عنواں ہیں ہمدم
اس دنیا میں پہلے پہلے ہر کام ہی مشکل ہوتا ہے
تسکین سی کیوں مل جاتی ہے، مضرابِ دستِ شوق مجھے
ہر تارِ گریباں، کیا وحشت کے ساز کا حامل ہوتا ہے
دھیرے دھیرے چلنے والے، یہ راہ روی کو کیا جانیں
جو تھک کر راہ میں بیٹھ گیا ہو، صاحبِ منزل ہوتا ہے؟
کیا کم ہے شکیبؔ زار جو حُسنِ دوست سے نسبت رکھتا ہو
جس دل میں نہ ہو اُلفت کی تڑپ، کس کام کا وہ دل ہوتا ہے
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s