الجیریا کے نام

کاکل ترے زرکار تھے

عارض شگوفہ زار تھے

ابر و اپی تلوار تھے

اے خستہِ تیغِ جفا

الجیریا … الجیریا

پاؤں میں تیرے بیڑیاں

چہرے پہ زخموں کے نشاں

دل میں گڑی ہیں سُولیاں

اب ہے سماں ہی دوسرا

الجیریا … الجیریا

تشنہ دَہاں تیرے سُبو

ارزاں ہے جِنس آبرو

مقتل سجے ہیں چار سُو

ہر اک ستم تجھ پر رَوا

الجیریا … الجیریا

بپھرا ہوا ہے سیلِ خُوں

صحرا بہ صحرا لالہ گوں

لرزاں ہے کوہِ بے سُتوں

بندِ مصائب تا کجا؟

الجیریا … الجیریا

پچھلا پَہَر ہے رات کا

ٹوٹیں گے تارے جا بجا

جلتی رہے شمعِ وفا

چمکے گا سورج دیکھنا

الجیریا … الجیریا

شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s