اس نے کہا

بھرے جہاں میں کہیں پیار مجھ کو مل نہ سکا

وفا سی شَے کا طلب گار مجھ کو مل نہ سکا

قدم قدم پہ بِکی ہے مری متاعِ شباب

قدم قدم پہ متاعِ شباب بیچوں گی

گراں ہیں دوش پہ زُلفوں کے عنبریں سایے!

یہ ریشمیں سے مُعطّر سحاب بیچوں گی

لطافتِ لَب و رُخسار ہے مری دشمن

بہارِ غنچہ و فصلِ گُلاب بیچوں گی

نہ راس آئی مجھے چاندنی وفاؤں کی

بطورِ خاص شبِ ماہتاب بیچوں گی

مرے جنوں نے بڑی تلخیاں خریدی ہیں

نظر کے جام‘ لبوں کی شراب بیچوں گی

مرا غُرور ہے آج انتقام آمادہ!

بدن کا لَوچ‘ نگاہوں کی آب بیچوں گی

قسم ہے مجھ کو تقدّس مآب مَریمؑ کی!

بڑے خُلوص سے شرم و حجاب بیچوں گی!

حیا نصیب شگوفوں کو لُوٹنے والو!!

بہارِ زیست کا میں انتخاب بیچوں گی!

کھنکتے سِکّوں نے جب تک تمھارا ساتھ دیا

میں اپنا حُسن‘ جوانی‘ شباب بیچوں گی

حیا فروش ہوں ‘ جاؤ میں نیک نام نہیں !

مری نظر میں تمھارا بھی کچھ مقام نہیں !

شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s