آمدِ صبحِ شب اندام پہ رونا آیا

خوابِ گُل رنگ کے انجام پہ رونا آیا
آمدِ صبحِ شب اندام پہ رونا آیا
دل کا مفہوم اشاروں سے اُجاگر نہ ہوا
بے کسیِ گلہِ خام پہ رونا آیا
کبھی اُلفت سی جھلکتی ہے، کبھی نفرت سی
اے تعلق! ترے ابہام پہ رونا آیا
میری خوشیاں کبھی جس نام سے وابستہ تھیں
جانے کیوں آج اسی نام پہ رونا آیا
لے کے ابھرے گی سحَر پھر وہی پژمُردہ کرن
کیا کہوں ! تیرگیِ شام پہ رونا آیا
بے سبب اپنی نگاہوں سے گرا جاتا ہوں
اس فسوں کاریِ الزام پہ رونا آیا
اتنے ارزاں تو نہیں تھے مرے اشکوں کے گُہر
آج کیوں تلخیِ آلام پہ رونا آیا؟
لائقِ حسنِ نظر تھے نہ کبھی ان کے خطوط
آج محرومیِ پیغام پہ رونا آیا
اب بھی منزل مرے قدموں کی تمنائی ہے
کیا کہوں حسرتِ یک گام پہ رونا آیا
رونے والا تو کرے گا نہ کسی کا شکوہ
لاکھ کہیے غمِ ایّام پہ رونا آیا
ان کے شبہات میں کچھ اور اضافہ تھا شکیبؔ
اشکِ سادہ کے اس انعام پہ رونا آیا
شکیب جلالی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s