کہ ماں کا حرفِ دعا بھی نہیں رہا اب تو

حصارِ ردِؔ بلا بھی نہیں رہا اب تو
کہ ماں کا حرفِ دعا بھی نہیں رہا اب تو
بہت کثیر ہے تعداد دشمنوں کی مرے
پھر اُن سے کوی بچا بھی نہیں رہا اب تو
سخن کا کوی سبب ہے نہ رابطے کا جواز
کہ گفتگو میں مزا بھی نہیں رہا اب تو
نہ آگہی سے ملا کچھ ہمیں، مزید برآں
ہمارے پاس خدا بھی نہیں رہا اب تو
یہ خیر خواہ مجھے کس قدر ستاتے ہیں
میں اپنا حال بتا بھی نہیں رہا اب تو
رلا نہیں رہا اب تو کسی کا رنج ہمیں
کسی کا رنج رلا بھی نہیں رہا اب تو
اب اس کے بعد یہی ہاوہو سنو گے میاں
سخن سرا میں رسا بھی نہیں رہا اب تو
مرے تمام عزادار صبرپا گٗے ہیں
وہ شورِ آو بُکا بھی نہیں رہا اب تو
بس اب یہ گوشہ نشینی ہی ٹھیک ہے عرفان
کہ دل کو شہر یہ بھا بھی نہیں رہا اب تو
عرفان ستار

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s