کہ جو کہیں بھی نہیں اُس کی جستجو کرتے

جنوں کے باب میں اس درجہ کیا غُلو کرتے
کہ جو کہیں بھی نہیں اُس کی جستجو کرتے
ہے ایسا حُسنِ مکمل بجز تمہارے کون
تمہارے بعد بھلا کس کی آرزو کرتے
نہیں ہے کوئی کہیں بھی ہمارے غم میں شریک
سو آئینے کے سِوا کس کو روبرو کرتے
جہاں سے روح میں آزار بھرتا جاتا ہے
وہ چاک جسم پہ ہوتا تو ہم رفو کرتے
عُدو کے تیر کی دل تک کہاں رسائی تھی
جو کام تم نے کیا ہے وہ کیا عُدو کرتے
حجاب مانع ہے ورنہ سخن پہ ہے وہ عبور
تمہارے حُسن کی تفسیر مُو بہ مُو کرتے
سخن ہجوم سے ہٹ کر کیا کرو عرفان
رہیں گے یہ تو اسی طرح ھاؤ ھُو کرتے
عرفان ستار

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s