کچھ بھی نہیں بگڑا ابھی، عزت سے نکل جا

اچھا ہے اگر شہرِ رقابت سے نکل جا
کچھ بھی نہیں بگڑا ابھی، عزت سے نکل جا
لمحات کئی اور گزرنے کو ہیں بے تاب
ٹھہری ہوئی اس درد کی ساعت سے نکل جا
تُو عشق ہے بےخوف گزر شہرِ جنوں سے
اس مسئلہءِ اذن و اجازت سے نکل جا
ہے عقل کا کہنا کہ کسی طور نبھا لے
دل کہتا ہے بے فیض رفاقت سے نکل جا
جو رنج ترا ہے ہی نہیں اُس سے حذر کر
دنیا کا کہا مان، مصیبت سے نکل جا
ممکن ہے دوبارہ نہ وہ پوچھے تری مرضی
موقع ہے تو اس بابِ رعایت سے نکل جا
اے وارثِ خوشبوئے سخن زارِ حقیقت
اس رزم گہِ قامت و شہرت سے نکل جا
عرفان ستار

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s