تری خواہش نہیں دل میں زیادہ دیر رہنے کی

کہے دیتا ہوں، گو ہے تو نہیں یہ بات کہنے کی
تری خواہش نہیں دل میں زیادہ دیر رہنے کی
بچا کر دل گزرتا جا رہا ہوں ہر تعلق سے
کہاں اس آبلے کو تاب ہے اب چوٹ سہنے کی
رگ و پے میں نہ ہنگامہ کرے تو کیا کرے آخر
اجازت جب نہیں اس رنج کو آنکھوں سے بہنے کی
بس اپنی اپنی ترجیحات، اپنی اپنی خواہش ہے
تجھے شہرت کمانے کی، مجھے اک شعر کہنے کی
جہاں کا ہوں، وہیں کی راس آئے گی فضا مجھ کو
یہ دنیا بھی بھلا کوئی جگہ ہے میرے رہنے کی؟
جو کل عرفان پر گزری سنا کچھ اُس کے بارے میں؟
خبر تم نے سُنی طوفان میں دریا کے بہنے کی؟
عرفان ستار

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s