بھلا کیا ہے سبھی کا، یہ ہے قصور مرا

غموں سے شیشہِ دل اب ہے چور چور مرا
بھلا کیا ہے سبھی کا، یہ ہے قصور مرا
نہ آفتاب تھا، مہتاب تھا، نہ تارے تھے
پھر آسمانِ سخن پر ہوا ظہور مرا
میں اپنے حجرے سے باہر بھی کم نکلتا ہوں
پہنچ رہا ہے مگر شعر دور دور مرا
معاشِ خدمتِ خوباں سے میں تو بھر پایا
حساب آج ہی کردیجیے حضور مرا
مری ہی بیخ کنی کی گٗی سپرد مرے
عجب طریقے سے توڑا گیا غرور مرا
تری خوشی کے لیے تجھ سے مل بھی سکتا ہوں
اگرچہ کرب تو بڑھ جاٗے گا ضرور مرا
نہیں ہے شعر میں تاثیر بے سبب عرفان
چھلک رہا ہے ہر اک لفظ سے وفور مرا
عرفان ستار

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s