یہ میرا نطق ہے اِس کی زباں میں

کہاں یہ عشقِ دنیا اُور کہاں میں
گزارا کر رہا ہُوں بَس جہاں میں
میں اُس ہجرت سے خائف ہُوں کہ جس میں
یقیں بھی جا کے بس جائے گماں میں
یہ حرف اُور میں دلیلِ یک دِگر ہیں
یہ میرا نطق ہے اِس کی زباں میں
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s