ہے کرب نمایاں تِرے انکار کے پیچھے

پوشیدہ ہے کچھ پردۂ اَسرار کے پیچھے
ہے کرب نمایاں تِرے انکار کے پیچھے
سایے کے بھلا کیا قد و قامت سے اُلجھنا
سورج سے تَو نمٹو جو ہے دیوار کے پیچھے
لَوٹ آئے ہیں خاموش نہ دیکھی گئی ہم سے
ارزانیٔ دل رونقِ بازار کے پیچھے
گر سچ ہے تمہیں ترکِ مراسم کا نہیں دکھ
پھر کیا ہے یہ سب چشمِ گُہَربار کے پیچھے
پاگل تو نہیں ہو جو یہ چہروں پہ سکوں ہے
کیوں بیٹھے ہو ہلتی ہوئی دیوار کے پیچھے
در اصل نگاہوں میں کھٹکتا ہے مرا سر
ہیں لوگ بظاہر مری دستار کے پیچھے
دنیا کی نگاہوں میں تو میں ناچ رہا ہوں
وہ ڈور لئے بیٹھا ہے دیوار کے پیچھے
کیوں لگتے ہیں یہ ٹوٹے ہوئے دل کی سی آواز
کیا راز ہے ضامنؔ ترے اشعار کے پیچھے
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s