ہر طرف حدِّ نظَر تک ہے بیاباں جاناں

کس طرف جائیں ترے بے سر و ساماں جاناں
ہر طرف حدِّ نظَر تک ہے بیاباں جاناں
ہوتا جاتا ہے ہر اِک شہرِ محبّت تاراج
اہرمن سُنتا ہے کچھ اَور نہ یزداں جاناں
سَفَرِ عشق میں اب شرطِ وفا ختم ہُوئی
جنسِ دل ہو گئی اب اَور بھی ارزاں جاناں
کہا کہیَں کیفیتِ قلب و گذرگاہِ خیال
بستیوں کی طرح رستے بھی ہیں ویراں جاناں
دشتِ وحشت میں ہے سرمستیِ وحشت معدوم
چشمِ آہُو ہے نہ وہ لعلِ بدخشاں جاناں
پھر قزح رنگ گلستاں میں نہ آیا کوئی
پھیکا پھیکا ہے بہت رنگِ گلستاں جاناں
جس طرف دیکھتے ہیں دیکھتے رہ جاتے ہیں
اب ہے نرگس بھی ہمیں دیکھ کے حیراں جاناں
تیرے دیوانے کو بہلانے کے ساماں ہیں بہم
کُنجِ تنہائی ہے اور یادوں کے طوفاں جاناں
یوں ہی بے حال رہے ہجر کی راتوں میں اگر
اب کے کس طرح سے گزرے گا زمستاں جاناں
دیکھ! بن جائیں گے ضامنؔ کی غزل کی پہچان
زخم تَو زخم ہیں وہ لاکھ ہَوں پنہاں جاناں
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s