کیوں نہ ہَوں کیا کسی سے کم ہیں ہم

خسروِ کِشوَرِ اَلَم ہیں ہم
کیوں نہ ہَوں کیا کسی سے کم ہیں ہم
شبِ تنہائی اب یہ ڈر کیسا
اَور کوئی نہیں ہے ہم ہیں ہم
کس قدر پُر سکون ہے دنیا
لبِ خاموش و چشمِ نَم ہیں ہم
کچھ عناصِر ابھی نہیں بِکھرے
دَمِ تحریر تَو بَہَم ہیں ہم
زندگی ایسی رایگاں بھی نہیں
کچھ دِلوں پر کہیِں رَقَم ہیں ہم
احتیاطاً کِیا نہ ذِکر اُن کا
سارا موضوع بیش و کم ہیں ہم
ضامنؔ! اِک رازِ کاینات کہوں ؟
خود پُجاری ہیں خود صَنَم ہیں ہم
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s