کیا چہرہِ گُل اُترا ہُوا ہے کہ نہیں ہے

یہ دَورِ خزاں ، کس نے کہا ہے کہ نہیں ہے
کیا چہرہِ گُل اُترا ہُوا ہے کہ نہیں ہے
افلاک سے آہیں جو پَلَٹ آئی ہیں ناکام
ہر زخم نے پوچھا ہے خدا ہے کہ نہیں ہے
مظلوم کی آنکھوں میں جو لکّھا ہے اُسے پڑھ
تیرے لئے پیغامِ قضا ہے کہ نہیں ہے
چہرہ نہ مرا دیکھ، مرے دل پہ نَظَر رکھ
ہر حال میں راضی بہ رضا ہے کہ نہیں ہے
تفصیلِ فرائض تو بتادی گئی مجھ کو
کیا مجھ کو کوئی حق بھی مِلا ہے کہ نہیں ہے
لوگوں کے بندھے ہاتھوں پہ امکاں کی نَظَر ڈال
اِن میں سے ہر اِک دستِ قضا ہے کہ نہیں ہے
کیوں کرتے ہو تم پُرسشِ احوال کی زحمت
جو دل میں ہے چہرے پہ لکھا ہے کہ نہیں ہے
ضامنؔ! مِرا شیوہ ہی محبّت ہے، مجھے کیا
بستی کے مکینوں میں وفا ہے کہ نہیں ہے
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s