کیا تمہیں اپنی نظر کا خود بھی اندازہ نہیں

کون سا ہے زخم جو کاری نہیں تازہ نہیں
کیا تمہیں اپنی نظر کا خود بھی اندازہ نہیں
منتشر ہونے کو ہے چاہو تو اب بھی روک لو
میرے بس میں اب مری ہستی کا شیرازہ نہیں
ہیچ ہیں عشق و جنون و جذب سب پیشِ فنا
منزلِ آخر پَہ کوئی خوفِ خمیازہ نہیں
چشمِ گریاں سے ٹپکتی نطقِ خاموشی کی گونج
محض آوازِ شکستِ دِل ہے آوازہ نہیں
جب محبت ہو گئی ضامنؔ! تب اندازہ ہُوا
یہ وہ زنداں ہے کہ جس میں کوئی دروازہ نہیں
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s