کیا اہلِ خِرد کیفِ جنوں ڈھونڈ رہے ہیں

اِس عالمِ وحشت میں سکوں ڈھونڈ رہے ہیں
کیا اہلِ خِرد کیفِ جنوں ڈھونڈ رہے ہیں
قاتل بھی ہے خنجر بھی ہے موجود مگر لوگ
مقتول کے ہاتھوں ہی پہ خوں ڈھونڈ رہے ہیں
اے ظرفِ تنک مایَہِ دنیائے دَنی، ہم
ظرف اب کوئی وسعت میں فزوں ڈھونڈ رہے ہیں
پس منظرِ "کُن” کیا تھا ہمیں بھی تو ہو معلوم
ہم لمحہِ قبل از "فَیَکُوں” ڈھونڈ رہے ہیں
معلوم نہیں حلقہِ احباب میں ضامنؔ
وہ چیز جو ناپید ہے کیوں ڈھونڈ رہے ہیں
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s