کسی کو ترکِ تعلّق سَتا رہا ہو گا

ہر انجمن میں مرا ذکر آ رہا ہو گا
کسی کو ترکِ تعلّق سَتا رہا ہو گا
دل و دماغ میں اِک کشمکش تو ہو گی ابھی
لبوں پہ نام مرا ڈگمگا رہا ہو گا
زہے نصیب وہ پھر آ رہا ہے بستی میں
گئے زمانوں کو بھی ساتھ لا رہا ہو گا
خوشی میں بھی مجھے رہتی ہے فکر دامن گیر
کہ وقت تِیر کماں میں لگا رہا ہو گا
لحد میں ہوں گے حقوقِ بشر مرے لب پر
فرشتہ حکمِ اِلٰہی سُنا رہا ہو گا
بنایا کرتے تھے ہنس ہنس کے سب کو دیوانہ
زمانہ اب وہ اُنہیں یاد کیا رہا ہو گا
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s