کب مجھ پہ التفاتِ فراواں کروگے تُم

کَب میری آرزوؤں کو حیراں کروگے تُم
کب مجھ پہ التفاتِ فراواں کروگے تُم
دِل میں بَسائے بیٹھے ہو اِک شہرِ آرزو
کوچے میں کیسے شہر کو پنہاں کروگے تُم
ماضی کے اِرتباطِ فراواں کی یاد میں
تنہائیوں میں جَشنِ چراغاں کروگے تُم
اَچھّا چلو یہی سہی تُم سا کوئی نہیں
ہم بھی ہیں خُوش کہ ہو کے خُوش اب ہاں کروگے تُم
زندہ ہے اِس اُمید پہ ضامنؔ کہ ایک روز
تکمیلِ آرزو پہ پشیماں کروگے تُم
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s