پھِر ہر اِک لمحہِ گُم گَشتہ کو رویا جائے

ایک تصویر میں ہَر دَرد سمویا جائے
پھِر ہر اِک لمحہِ گُم گَشتہ کو رویا جائے
اُس نے یہ کہہ کے کِیا تَرکِ تَعَلُّق مجھ سے
یاد رَکھنے کو ضروری ہے کہ کھویا جائے
داغِ اُلفَت ہی تَو پہچان ہے تیری میری
کیسے ممکن ہے کہ اِس داغ کو دھویا جائے
آپ کے بعد ہے گر کوئی قَیامَت باقی؟
وہ بھی آجائے تَو پِھر چَین سے سویا جائے
تُو ہے وہ داغ جو بنیاد ہے سَب داغَوں کی
داغِ ہَستی تجھے کس طَور سے دھویا جائے
ضامنؔ! اُس چَشمِ گُہَر بار سے جو برسے ہیں
ایک اِک موتی کو پلکوں میں پرویا جائے
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s