پھر وہی ہم وہی پُرانے لوگ

لیجیے! آگئے! سَتانے لوگ
پھر وہی ہم وہی پُرانے لوگ
کوئی کچھ تَو کہے! میں ٹھیک تَو ہُوں ؟
کیوں کھڑے ہیں مِرے سرہانے لوگ؟
وقت خُود اُن میں زندہ رہتا ہے
خُود میں ہوتے ہیں جو زمانے لوگ
ہو گیا کیا میں اِتنا غیر اَہَم؟
کیوں نہیں آئے دل دُکھانے لوگ؟
میں اصولوں کی جنگ لڑتا رہا
داد دیتے رہے، سیانے لوگ
کاش تم ہوتے گذرے وقتوں میں
تم نے دیکھے نہیں پُرانے لوگ
زخمِ دل بھر رہی ہے تنہائی
پھر نہ لگ جائیں آنے جانے لوگ
ایک سچ بات مُنہ سے نکلی تھی
لگے محفل سے اُٹھ کے جانے لوگ
بات سچ ہے تَو میں کہوں گا ضرور
لَوٹ آؤں گا گر نہ مانے لوگ
مشعلِ جاں سے روشنی کی ہے
جب بھی آئے دِیے بجھانے لوگ
وقت ضائع نہ کیجئے ضامنؔ
جب بنانے لگیں بہانے لوگ
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s