پھر جوشِ جنوں بیدار ہُوا پِھر عقل کو ہے جھنجلاہٹ سی

ویرانہِ دل میں کون آیا کانوں نے سنی اِک آہٹ سی
پھر جوشِ جنوں بیدار ہُوا پِھر عقل کو ہے جھنجلاہٹ سی
پھر چشمِ تصوّر نے کھینچا اِک حشر سراپا کا نقشہ
پھر اُس نے دیکھا ہے لے کر آنکھوں میں ایک لگاوَٹ سی
مانا کہ نہیں اب وہ عالم رُخصت بھی خمارِ شب کی ہے
ہے پھر بھی تمنّا ایک نظر کافی ہے ہمیں یہ تلچھٹ سی
وہ عرضِ محبّت پر میری شرمائے ہُوئے سے بیٹھے ہیں
نظریں ہیں جھکی، پلکیں لرزاں چہرے سے عیاں گھبراہٹ سی
یہ کون سا کوچہ ہے یارب ہر گام پہ کیوں سر جھُکتا ہے
کہتے ہیں قرائن سب ضامنؔ لگتی ہے یہ اُن کی چوکھٹ سی
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s