وہ ٹَہَر جائیں تو پھر وقت رواں کیسے ہو

دل ہی مدہوش ہے احساسِ زیاں کیسے ہو
وہ ٹَہَر جائیں تو پھر وقت رواں کیسے ہو
اُن سے ہر کیفیتِ کون و مکاں کر کے بیاں
اب پریشاں ہوں محبت کا بیاں کیسے ہو
روٹھ کر بھی جو سدا میری خبر رکھتا ہے
مجھ کو اُس شخص پہ نفرت کا گماں کیسے ہو
تو ہی بتلا دے ہر اِک سانس میں بسنے والے
اِس طرح سے تو کوئی کارِ جہاں کیسے ہو
دل شکستہ ہے کوئی، کوئی نظر نیچی ہے
کس کا نقصان سِوا ہے یہ عیاں کیسے ہو
اُن کو لگتی تو ہیں اچھی تری غزلیں ضامنؔ
رازِ دل اَور بھلا کھُل کے بیاں کیسے ہو
ضامن جعفری

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s